New Page 1

The Efforts of www.nafseislam.com

Share This Page   

Answers @ Mufti / Fatwa System

Welcome " Guest "


Back To Previous Page
Question No:
890
ایک شخص جو پانچ وقت کا نمازی تحجد ، چاشت اشراق پڑھنے والا ہے اور کثرت سے روزے بھی رکھتا ہے یعنی قائم الیل اور صائم النہار ہے ۔ اسکی زوجہ بوڑھی ہے اپنے شوہر کا کھانا پکا نا اور اسکے دیگر کام وغیرہ کرنے سے قاصر ہے لہذا بہو ہی سارے معاملات کو سنبھالتی ہے اور سحری کے وقت اٹھ کر اپنے سسر کو کھانا بھی بنا کر دیتی ہے ۔ سسر جو بڑے متقی عبادت گزار اور پرہیز گار ہیں انکا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ میں چونکہ بڑا عابد زاہد ہوں اس لیے سحری کے وقت بہو میرا کھانا بنانے سے پہلے خود دو رکعت نفل ادا کرے پھر مجھے کھانا بنا کر دے ، اگر وہ بغیر نفل ادا کیے میرے لیے کھانا بنا تی ہے تو پھر میری اس عبادت و ریاضت کا کیا فائدہ یعنی یہ بات میرے عابد و زاہد ہونے کے شایان شان نہیں کہ کوئی بے نمازی میرے لیے کھانا بناے ۔ اوپر کی عبرت کے پیش نظر چار سوالات پیش خدمت ہیں ۔ 1۔ اگر سسر صاحب کا ایسا کرنا گھر والوں کو نماز کی طرف راغب کرنا ہو تو کیا یہ انداز درست ہے ؟ 2۔ اس انداز کی عبادت کی کیا شرعی حیثیت ہے ؟ 3۔ سسر کا اپنی بہو سے ایسا مطالبہ کیا جائز ہے ؟ جبکہ بہو کسی ایسی حالت میں بھی ہو سکتی جس میں اسے نماز نہیں پڑھنی۔ 4۔ اس موقع پر بہو کو کیا کرنا چاہیے ؟
Answer: Download

 
Literature   Quran & Tafseer   Ahadees   Fatawa Jaat   Sunni Jarayed

Arabic Books

Urdu Books

English Books

Namoos-e-Risalat

Khatm-e-Nabowat

Tahreek-e-Pakistan

Kufriya Akayed-e-Batila

 

Kanz-ul-Eeman

Tafseer Ibn-e-Kasir

Durr-e-Mansoor

Tibiyan-ul-Quran

Tafseer-e-Mazhari

Tafseer-e-Naeemi

& More

 

Jamayat-ul-Ahadees

Sihaah Sittah

Sharha Saheeh Muslim

Tahavi Shareef

& More

 

Fatawa-e-Razawiya

Waqar-u-Fatawa

Fatawa-e-Amjadiya

Fatawa-e-Africa

Fatawa-e-Europe

& More

 

Kalma-e-Haq

Daeel-e-Raah

Monthy Al Ashraf

Faiz-e-Aalam

Ma'arif-e-Raza

Monthly Mustafai

Noor-ul-Habeeb

& More

Open